خداوند یسوع مسیح کی نعمت اور سلامتی آپ سب کے ساتھ ہو۔ آج عام وقت کے بائیسویں اتوار کو، ہم سب یہاں خداوند کی حمد و ثنا کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ آئیے ہم سب باپ اور بیٹے اور پاک روح کے نام پر۔ آمین۔
خداوند، ہم پر رحم فرما۔ مسیح، ہم پر رحم فرما۔ خداوند، ہم پر رحم فرما۔
میرے عزیز بھائیو اور بہنو، یسوع مسیح میں آپ سب کو سلام۔
آج ہم ایک بہت ہی گہری اور پراسرار تصویر کے ساتھ اپنے کلام کا آغاز کریں گے۔ تصور کیجیے کہ آپ ایک صحرا میں کھڑے ہیں، جہاں دور دور تک ریت کے ٹیلے ہیں، اور سورج آسمان پر آگ برسا رہا ہے۔ زمین خشک ہے، کرچی کرچی ہوئی ہے، اور ہر طرف پیاس کی شدت ہے۔ اس منظر میں، اچانک آپ کو ایک آواز سنائی دیتی ہے… ایک پکار… جو آپ کے دل کے گہرائیوں سے اٹھتی ہے۔ یہ آواز کہتی ہے: ”اے خدا، تو میرا خدا ہے جسے میں ڈھونڈتا ہوں۔“
یہ آواز یریمیہ نبی کی ہے۔ وہ صحرا میں، گناہوں سے بھری دنیا میں، خدا کو تلاش کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے: ”میری جان تیرے لیے تڑپتی ہے، میرا بدن تیرے لیے پیاسا ہے، جیسے سوکھی اور پانی کے بغیر کی زمین۔“ یہ پیاس صرف جسمانی نہیں، یہ روح کی پیاس ہے۔ یہ اس گہرے خلا کو بھرنے کی خواہش ہے جو صرف خدا ہی بھر سکتا ہے۔
آج کے پہلے مطالعے میں، یریمیہ نبی کی آواز ہمیں سنائی دیتی ہے۔ وہ خدا کے کلام کو بیان کرنے کی ذمہ داری سے بوجھل ہے۔ وہ کہتا ہے: ”تو نے مجھے بہکایا، اے خداوند، اور میں بہک گیا۔“ وہ شکایت کرتا ہے کہ خدا کا کلام اس کے لیے ہنسی، مذاق اور ذلت کا باعث بن گیا ہے۔ وہ کہتا ہے: ”جب بھی میں بولتا ہوں، مجھے چیخنا پڑتا ہے، تشدد اور لوٹ مار میرا پیغام ہے۔ خداوند کا کلام مجھے بدنامی اور ذلت کا باعث بن گیا ہے۔“
یہ ایک مشکل احساس ہے۔ جب ہم خدا کے لیے جینا چاہتے ہیں، جب ہم اس کے سچ کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، تو اکثر دنیا ہمیں قبول نہیں کرتی۔ دنیا ہمیں ہنسی کا نشانہ بناتی ہے، ہمیں طعنے دیتی ہے۔ یریمیہ کی طرح، ہم بھی کبھی کبھی سوچتے ہیں: ”میں اسے یاد نہیں کروں گا، میں اس کے نام پر اور بات نہیں کروں گا۔“ لیکن پھر کیا ہوتا ہے؟ یریمیہ کہتا ہے: ”مگر میرے دل میں وہ آگ کی طرح جلتا ہے، میری ہڈیوں میں بند ہے۔ میں اسے روکے رکھنے سے تھک گیا ہوں، میں اسے برداشت نہیں کر سکتا۔“
یہ آگ، یہ پیاس… یہی وہ جذبہ ہے جو ہمیں خدا کی طرف کھینچتا ہے۔ یہ وہ اندرونی آواز ہے جو ہمیں سچائی کی طرف بلاتی ہے۔
آج ہم تیرہ جون دو ہزار چھبیس کو اپنے پیارے بنجامن وو، ہمارے پیارے بن کو خدا کے سپرد کر چکے ہیں۔ اس کی موت کو اب تقریباً دو ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ دو ماہ… ساٹھ دن کا یہ سفر بہت بھاری رہا ہے۔ شروع کا وہ صدمہ، وہ ہجوم، وہ تسلی کے پیغامات… اب وہ سب کچھ ایک گہری خاموشی میں بدل چکا ہے۔ گھر کا ہر کونا، ہر خالی جگہ، اور ہر خاموش لمحہ بنجامن کی یاد دلاتا ہے۔ ایلن اور تھاؤ، آپ کے لیے راتیں اب بھی لمبی ہیں اور صبح کا اجالا اب بھی اس خالی پن کو دور نہیں کر پاتا جو بن کے جانے سے پیدا ہوا ہے۔ پیارے ریان، تمہارے لیے اپنے بڑے بھائی، اپنے بہترین دوست کے بغیر ہر دن گزارنا ایک ایسی صلیب ہے جو بہت بھاری ہے۔
ہم یہاں کوئی سستی تسلی دینے نہیں آئے۔ ہم یہ کہنے نہیں آئے کہ ”سب ٹھیک ہو جائے گا۔“ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بن کا اس دنیا سے جانا ایک ایسا زخم ہے جو کبھی پوری طرح نہیں بھر سکتا۔ اس کی وہ ہنسی، اس کی وہ معصومیت، اس کا کمپیوٹر پر ادھورا رہ جانے والا کام… یہ سب چیزیں ایک ایسا سچ ہیں جو دل کو چیر دیتا ہے۔ سچی تسلی تبھی شروع ہوتی ہے جب ہم اس گہرے دکھ کو تسلیم کرتے ہیں اور اسے خدا کے حضور پیش کرتے ہیں۔
اور اس گہرے غم کے دوران، کبھی کبھی ایک بہت ہی خاموش لیکن خطرناک احساس ہمارے دلوں میں سر اٹھاتا ہے۔ وہ احساس ہے 'خود ملامتی' کا۔ انسان سوچتا ہے: ”کیا میرے ہاتھوں سے کوئی کوتاہی ہوئی؟ کیا میں نے ایک باپ کے طور پر، یا ایک ماں کے طور پر، کوئی ایسی چیز مس کر دی جو میں کر سکتا تھا؟ کیا کاش میں نے کچھ اور کیا ہوتا؟“ یہ وہ بوجھ ہے جو انسان کو اندر سے کھا جاتا ہے۔
آج خداوند کا کلام آپ کے اس بوجھ کو ہلکا کرنے آیا ہے۔ جب یسوع کے سامنے اس اندھے آدمی کا سوال لایا گیا کہ ”کس نے گناہ کیا کہ یہ ایسا پیدا ہوا؟“ تو یسوع نے صاف فرمایا: ”نہ اس نے گناہ کیا اور نہ اس کے ماں باپ نے۔“ میرے پیارے ایلن اور تھاؤ، بیماری اور موت اس دنیا کے ٹوٹے ہوئے نظام کا حصہ ہیں، یہ خدا کی طرف سے کوئی سزا نہیں ہیں، اور نہ ہی یہ آپ کی کسی کوتاہی کا نتیجہ ہیں۔ آپ کے ہاتھوں نے بنجامن کو وہ بہترین محبت دی جو زمین پر ممکن تھی۔ آپ نے اس کے پندرہ سالوں کو خوشیوں، سفر، اور تحفظ سے بھر دیا۔ آپ کے ہاتھ بے قصور ہیں، اور آپ کا دل خدا کے حضور پاک ہے۔ اس لیے اپنے دل سے اس بوجھ کو اتار پھینکیں اور خود کو اس بے بنیاد پچھتاوے سے آزاد کریں۔
آج کی انجیلِ مقدس میں، یسوع اپنے شاگردوں سے کہتے ہیں: ”اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے، تو وہ اپنی نفی کرے، اپنا کراس اٹھائے اور میری پیروی کرے۔“ یہ ایک مشکل سبق ہے۔ یسوع نے پطرس کو سختی سے ڈانٹا جب اس نے یسوع کو اس کی موت سے بچانے کی کوشش کی: ”میرے پیچھے ہٹ جا، شیطان! تو میرے لیے ٹھوکر کا باعث ہے۔ کیونکہ تو خدا کی نہیں بلکہ انسانوں کی سوچتا ہے۔“
یسوع کی یہ بات ہمیں کہاں لے جاتی ہے؟ یہ ہمیں اس حقیقت کی طرف لے جاتی ہے کہ خدا کا راستہ انسان کے راستے سے مختلف ہے۔ خدا کی حکمت ہماری حکمت سے بلند ہے۔ جب ہم خدا کے لیے جینا چاہتے ہیں، جب ہم اس کی مرضی پوری کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی انسانی سوچ، اپنی خود غرضانہ خواہشات، اور اس دنیا کے طور طریقوں کو ترک کرنا پڑتا ہے۔
یریمیہ نبی کی طرح، بنجامن بھی خدا کی پیاس رکھتا تھا۔ اس کی ذہانت، اس کی تجسس، اس کا وہ خواب کہ وہ اپنی ایئر لائن 'con chim airlines' شروع کرے گا، یہ سب اس بات کی علامت تھی کہ وہ اس دنیا سے بلند کچھ چاہتا تھا۔ وہ صرف ایک عام لڑکا نہیں تھا۔ پندرہ سال کی عمر میں، اس نے اپنے چچا ولیم کی بیماری کے بارے میں سن کر، بغیر کسی کے کہے، اپنا پورا پگی بینک دینے کی پیشکش کی تھی۔ اس نے وہ پگی بینک توڑا نہیں، اس نے اسے خالی نہیں کیا، کیونکہ اس کی ضرورت نہیں پڑی۔ لیکن اس کی وہ پیشکش ہی سب کچھ تھی۔ یہ اس کے دل کی وہ سچائی تھی جو دنیا کے سب سے بڑے خزانے سے زیادہ قیمتی تھی۔ یہ اس کی وہ قربانی تھی جو اس نے ابھی سے شروع کر دی تھی۔
بنجامن کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی پیاس، خدا کا کلام، اور خدا کی مرضی پوری کرنے کی خواہش انسان کو دنیاوی راحت سے بلند کر دیتی ہے۔ وہ دنیاوی آسائشوں میں نہیں الجھا۔ اس کے ہاتھوں نے کمپیوٹر پر کوڈ لکھا، اس نے اپنے والد کے ساتھ ہوائی جہازوں کو دیکھا، اس نے دنیا کے مختلف شہروں میں سفر کیا۔ لیکن ان سب کے پیچھے، اس کے دل میں خدا کی ایک گہری پیاس تھی۔
دوسرا مطالعہ، رومیوں کے خط سے، ہمیں اس پیاس کو بجھانے کا راستہ دکھاتا ہے۔ مقدس پولس رسول کہتے ہیں: ”پس اے بھائیو، میں خدا کی رحمتوں کے وسیلے سے تم سے التجا کرتا ہوں کہ اپنے بدنوں کو زندہ قربانی کے طور پر پیش کرو، جو پاک اور خدا کے لیے پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔“
یہ کیا ہے؟ یہ خدا کی محبت کو اپنی زندگی کا مرکز بنانا ہے۔ یہ اپنی خواہشات، اپنی انا، اور اپنے مفادات کو خدا کی مرضی کے تابع کرنا ہے۔ بنجامن نے اپنی زندگی میں یہی کیا۔ اس نے اپنی ذہانت کو خدا کی خدمت کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ کیا۔ اس نے اپنی زندگی کو ایک زندہ قربانی کے طور پر پیش کیا۔
اور پھر یسوع کہتے ہیں: ”جو اپنی جان بچانا چاہے گا وہ اسے کھو دے گا، لیکن جو میری خاطر اپنی جان کھو دے گا وہ اسے پا لے گا۔“ یہ ایک الٹا حساب ہے۔ دنیا ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنی جان بچاؤ، اپنی حفاظت کرو، اپنے مفادات کو ترجیح دو۔ لیکن یسوع ہمیں سکھاتے ہیں کہ سچی زندگی خدا کی خاطر جینے میں ہے۔
بنجامن کی زندگی، اگرچہ مختصر تھی، لیکن اس نے ہمیں یہ سبق سکھایا۔ اس نے اپنی بیماری کے دوران جو ہمت اور percaya (اعتماد) دکھایا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے اپنی جان یسوع کے لیے کھو دی، تاکہ وہ اسے ابدیت میں پا سکے۔
یہاں ایک بہت بڑا موڑ آتا ہے۔ یسوع پطرس سے کہتے ہیں: ”میرے پیچھے ہٹ جا، شیطان!“ یہ ایک سخت جملہ ہے، لیکن یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خدا کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ہمیں دنیا کی خواہشات، یہاں تک کہ اپنے پیاروں کی خواہشات کے خلاف بھی کھڑا ہونا پڑتا ہے، اگر وہ خدا کی مرضی کے خلاف ہوں۔
بنجامن کی زندگی میں، اس کی وہ پیشکش کہ وہ اپنا پگی بینک دے دے گا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی جان خدا کی خاطر قربان کرنے کے لیے تیار تھا۔ وہ دنیاوی دولت کو ترک کر کے خدا کی محبت کو اپنانے کو تیار تھا۔
پیارے ریان، میں آج خاص طور پر آپ سے مخاطب ہوں۔ آپ کے بھائی بنجامن اب جسمانی طور پر آپ کے ساتھ نہیں ہیں، لیکن ان کی محبت اور ان کا اثر ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گا۔ جب بھی آپ کمپیوٹر پر بیٹھیں، جب بھی آپ کوئی نیا کوڈ دیکھیں، یا جب بھی آپ آسمان کی طرف دیکھیں، تو یاد رکھیں کہ آپ کے بھائی کا ہاتھ اب بھی آپ کی پشت پر ہے، وہ آپ کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دے رہا ہے۔ آپ کو اپنے بھائی کے لیے، اس کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے، مضبوط بننا ہے اور اپنی زندگی کو خوبصورتی سے جینا ہے۔
اور ایلن اور تھاؤ، جب آپ کو لگے کہ آپ کے ہاتھ خالی ہیں، تو یاد رکھیں کہ بن کی محبت اب بھی اس دنیا میں بہہ رہی ہے۔ ویتنام کے علاقے کاد ماؤ میں جو پانی کا کنواں بن کے نام پر لگایا گیا ہے، وہ اس کے نام کی طرح—ڈائی ڈونگ (عظیم سمندر)—ایک ابدی بہاؤ ہے۔ وہ کنواں اس بات کا ثبوت ہے کہ بن کے ہاتھوں کی برکت اب بھی پیاسوں کو زندگی بخش رہی ہے۔ یہ وہی سچا کام ہے جس کی تعلیم یسوع نے دی تھی۔
آج جب ہم اس عبادت سے رخصت ہوں، تو میں آپ کو ایک چھوٹی سی بات دینا چاہتا ہوں جسے آپ اپنے ساتھ لے جا سکیں: اپنے دل کی پیاس کو محسوس کریں۔ خدا کی طرف متوجہ ہوں۔ یریمیہ کی طرح کہیں: ”میرا دل پیاسا ہے تیرا، اے خداوند میرے خدا۔“ اور رومیوں کی طرح خود کو خدا کے لیے ایک زندہ قربانی بنائیں۔
آئیں ہم اپنی پاک ماں مریم سے التجا کریں، جنہوں نے یسوع کی خاطر دنیا کی خواہشات کو ترک کر دیا، کہ وہ ہمیں بھی خدا کی مرضی پوری کرنے کی طاقت دیں۔ وہ ہمیں اس راستے پر چلنے میں مدد کریں جہاں ہماری جان خدا کی خاطر محفوظ رہے۔
بنجامن وو اب خدا کے جلال میں آرام کر رہا ہے، اور اس کی روشن مسکراہٹ ہمیشہ ہمارے راستوں کو منور کرتی رہے گی۔
خداوند آپ سب کو اپنے امن اور فضل سے نوازے۔ آمین۔
For the intentions entrusted to Ben on our prayer wall:
نجات دہندہ کے حکم پر اور الٰہی تعلیم سے تشکیل پاتے ہوئے، ہم کہنے کی جسارت کرتے ہیں:
اَے ہمارے باپ، تُو جو آسمان پر ہے، تیرا نام پاک مانا جائے؛ تیری بادشاہی آئے، تیری مرضی زمین پر بھی پوری ہو، جیسے آسمان پر پوری ہوتی ہے۔ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے، اور ہمارے قصور ہمیں معاف کر، جیسے ہم اپنے قصورواروں کو معاف کرتے ہیں؛ اور ہمیں آزمائش میں نہ ڈال، بلکہ بُرائی سے بچا۔ آمین۔
آئیں ہم خداوند کی برکت مانگیں۔ خداوند آپ سب کو برکت دے اور آپ کی حفاظت کرے۔ آمین۔
✝ May almighty God bless you: the Father, and the Son, and the Holy Spirit. Amen.