باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام میں، آمین۔ خداوند کی رحمت اور اس کا اطمینان جو ہماری عقل سے بالاتر ہے، آپ سب کے ساتھ ہو۔
اے خداوند، ہم پر رحم کر کیونکہ ہم نے تیرے خلاف گناہ کیا ہے۔ اے خداوند، ہمیں اپنی شفقت دکھا اور ہمیں اپنی نجات عطا کر۔ قادرِ مطلق خدا ہم پر رحم کرے اور ہمارے گناہ معاف کر کے ہمیں ابدی زندگی تک پہنچائے۔ آمین۔
اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر، جب آپ اپنی جیب سے چابی نکالتے ہیں، تو وہ ایک معمولی سی دھات محسوس ہوتی ہے۔ لیکن وہ چابی ایک سرحد ہے… وہ باہر کی دنیا کے شور اور اندر کے سکون کے درمیان کا راستہ ہے۔ وہ چابی اس بات کی گواہی ہے کہ آپ کا کہیں تعلق ہے، آپ کا ایک گھر ہے، ایک ایسی جگہ جہاں آپ کی اپنی دنیا بستی ہے۔
آج کے پاک کلام میں، ہم 'چابیوں' کا ذکر سنتے ہیں۔ یسعیاہ نبی الیاقیم کے کندھے پر داؤد کے گھرانے کی چابی رکھے جانے کی بات کرتا ہے، اور انجیلِ مقدس میں یسوع پطرس کو آسمان کی بادشاہی کی چابیاں سونپتا ہے۔ یہ محض تالے کھولنے کے اوزار نہیں ہیں؛ یہ اختیار، رسائی، اور سب سے بڑھ کر 'تعلق' کی علامتیں ہیں۔ جس کے پاس چابی ہے، اسے داخل ہونے کا حق ہے۔ جس کے پاس چابی ہے، وہ جانتا ہے کہ اندر کیا چھپا ہے۔
آج 13 اگست ہے، اور ہمارے پیارے بنجامن وو کو ہم سے بچھڑے ہوئے ٹھیک دو ماہ ہو چکے ہیں۔ ساٹھ دن… آٹھ ہفتے… ایک ایسا وقت جو شاید باہر کی دنیا کے لیے صرف ایک ہندسہ ہو، لیکن ایلن، تھاؤ اور ریان کے لیے، یہ ایک ایسی خاموشی کا سفر ہے جس کی گہرائی کو صرف وہی سمجھ سکتے ہیں۔ دو ماہ کا وقت وہ ہوتا ہے جب تعزیت کے فون کم ہونے لگتے ہیں، جب زندگی بظاہر اپنے معمول پر آنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن گھر کے اندر، اس خالی کرسی اور اس خاموش کمرے کی حقیقت پہلے سے زیادہ بھاری محسوس ہونے لگتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ماضی کا وہ دروازہ جہاں بن کی ہنسی گونجتی تھی، اب بند ہو چکا ہے اور اس کی چابی کہیں کھو گئی ہے۔
لیکن ذرا آج کے دوسرے مطالعے پر غور کریں، جہاں مقدس پولس پکار اٹھتا ہے: ”آہ! خدا کی دولت اور حکمت اور علم کی گہرائی کیا ہی زیادہ ہے! اس کے فیصلے کیسے ناقابلِ فہم اور اس کی راہیں کیسی ناقابلِ تلاش ہیں!“ یہ الفاظ ہمیں اس سچائی کی طرف لے جاتے ہیں جسے ہم اکثر دکھ میں بھول جاتے ہیں۔ زندگی ایک پیچیدہ کوڈ (code) کی طرح ہے، ایک ایسا نظام جس کی گہرائی ہماری سمجھ سے باہر ہے۔
ہمارا پیارا بن، Benjamin، اس بات کو بخوبی سمجھتا تھا۔ وہ ایک غیر معمولی ذہانت کا مالک لڑکا تھا۔ محض چودہ پندرہ سال کی عمر میں، جہاں دوسرے بچے صرف کھیل کود میں مگن ہوتے ہیں، بن AI (مصنوعی ذہانت)، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، اور AWS جیسے پیچیدہ نظاموں کی دنیا میں غوطہ زن تھا۔ وہ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ٹیکنالوجی کے ان پوشیدہ کوڈز کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا جو دنیا کو چلاتے ہیں۔ اس کے لیے، ہر لاجک (logic) ایک چابی تھی، ہر لائن آف کوڈ ایک راستہ تھا جو ایک نئی دنیا کھولتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر آپ کے پاس صحیح 'ایکسیس کی' (access key) ہو، تو آپ بڑے سے بڑے ڈیٹا بیس کے دروازے کھول سکتے ہیں۔
آج جب ہم بن کی اس علمی جستجو اور اس کے روشن دماغ کو یاد کرتے ہیں، تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ خدا نے اسے ایک ایسی چابی عطا کی تھی جو بہت کم لوگوں کو ملتی ہے: 'تجسس کی چابی'۔ وہ دنیا کو صرف دیکھتا نہیں تھا، وہ اسے سمجھنا چاہتا تھا۔ وہ بوئنگ 737 کے انجنوں کی گھنرج میں موسیقی سنتا تھا اور ہوائی اڈوں کے رن وے پر پرواز کے خواب بنتا تھا۔ اس کی ذہانت ایک ایسی چابی تھی جس نے اس کے لیے علم کے دروازے کھول دیے تھے۔
لیکن میرے عزیزوں، بن کے پاس ایک اور چابی بھی تھی، جو اس کے دماغ سے بھی زیادہ قیمتی تھی—اور وہ تھی اس کے 'نرم دل کی چابی'۔ وہ جتنا ذہین تھا، اتنا ہی شفیق اور فرمانبردار بھی تھا۔ اس کی مسکراہٹ ایک ایسی چابی تھی جو کسی بھی اداس دل کے دروازے کو کھول سکتی تھی۔ اس کی وہ معصومیت، اس کا اپنے والد سے وہ گہرا لگاؤ، اور اس کی وہ ہمدردی جو اسے دوسروں کے دکھ میں تڑپا دیتی تھی… یہ سب اس کے دل کی پاکیزگی کی نشانیاں تھیں۔
کبھی کبھی، جب ہم بن جیسے پیارے اور ذہین بچے کو اتنی جلدی کھو دیتے ہیں، تو ہمارے دل میں ایک کڑوا سوال اٹھتا ہے: ”خداوند، اگر تیرے پاس آسمان کی بادشاہی کی چابیاں ہیں، اگر تو جو کھولتا ہے اسے کوئی بند نہیں کر سکتا، تو تو نے اس بیماری کے دروازے کو بند کیوں نہ کیا؟ تو نے زندگی کا دروازہ بن کے لیے کھلا کیوں نہ رکھا؟“
یہ وہ سچائی ہے جسے ہمیں تسلیم کرنا چاہیے۔ یہ وہ درد ہے جو ایمان کے باوجود دل کو چیر دیتا ہے۔ دو ماہ گزرنے کے بعد، یہ سوال اکثر رات کے سناٹے میں سر اٹھاتا ہے۔ کبھی کبھی والدین کے دل میں یہ بوجھ بھی آتا ہے کہ شاید ہم سے کوئی کوتاہی ہوئی، شاید ہم نے کوئی ایسا کوڈ غلط لکھ دیا جس کی وجہ سے یہ سب ہوا۔
آج خداوند کا کلام آپ کے اس بوجھ کو ہلکا کرنے آیا ہے۔ یسوع سے جب پوچھا گیا کہ ایک شخص اندھا کیوں پیدا ہوا، کیا اس نے گناہ کیا یا اس کے ماں باپ نے؟ تو یسوع نے فرمایا: ”نہ اس نے گناہ کیا اور نہ اس کے ماں باپ نے۔“ بیماری، دکھ اور موت خدا کی طرف سے سزا نہیں ہوتے۔ یہ اس دنیا کے ٹوٹے ہوئے نظام کا حصہ ہیں، جو کسی کے اختیار میں نہیں ہیں۔ ایلن اور تھاؤ، آپ نے بن کو وہ بہترین زندگی دی جو کوئی بھی والدین دے سکتے تھے۔ آپ کی محبت وہ چابی تھی جس نے بن کے پندرہ سالوں کو خوشیوں سے بھر دیا تھا۔ آپ نے کچھ بھی نہیں چھوڑا، آپ نے کوئی غلطی نہیں کی۔ بن کی بیماری کوئی ایسا تالا نہیں تھا جسے آپ کی کوششیں کھول سکتیں؛ یہ ایک ایسا راز ہے جس کی چابی صرف خدا کے پاس ہے، اور مقدس پولس کہتا ہے کہ اس کی راہیں ناقابلِ تلاش ہیں۔
آج کی انجیل میں ایک بہت بڑا 'موڑ' (The Turn) آتا ہے۔ یسوع پطرس سے پوچھتا ہے: ”تم کیا کہتے ہو کہ میں کون ہوں؟“ اور پطرس جواب دیتا ہے: ”تو مسیح ہے، زندہ خدا کا بیٹا۔“ اس اعتراف کے بدلے میں، یسوع اسے چابیاں دیتا ہے۔
غور کریں، یسوع نے پطرس کو چابیاں اس لیے نہیں دیں کہ وہ کامل تھا، بلکہ اس لیے کہ اس نے یسوع کو پہچان لیا تھا۔ بنجامن نے بھی، اپنی معصومیت میں، یسوع کو پہچان لیا تھا۔ وہ بچہ جو لورڈز اور ویٹیکن کے مقدس مقامات پر اپنے خاندان کے ساتھ گیا، جس نے اپنے چھوٹے بھائی ریان کے ساتھ مل کر دعا کرنا سیکھا، اس نے 'ایمان کی چابی' حاصل کر لی تھی۔
آج جب ہم کہتے ہیں کہ بن 'آسمانی ضیافت' (Banquet of Heaven) میں ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس وہ اصل چابی ہے جو ابدی زندگی کا دروازہ کھولتی ہے۔ وہ اب اس دنیا کے پیچیدہ کوڈز اور بیماری کے تالوں سے آزاد ہو چکا ہے۔ وہ اب اس جگہ ہے جہاں کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا، جہاں کوئی جدائی نہیں ہوتی۔
پیارے ریان، آپ کا بھائی بن اب ایک ایسی بلندی پر پرواز کر رہا ہے جس کا خواب وہ ہوائی اڈوں پر کھڑے ہو کر دیکھا کرتا تھا۔ وہ اب 'con chim airlines' کا کپتان نہیں، بلکہ وہ فرشتوں کے ساتھ اس ابدی فضا میں ہے جہاں اسے کسی رن وے کی ضرورت نہیں۔ وہ آپ کا بہترین دوست تھا، اور وہ اب بھی آپ کے ساتھ ہے، ایک مختلف طریقے سے۔
ایلن اور تھاؤ، جب آپ اپنے گھر کی چابی تالے میں گھمائیں، تو یاد رکھیں کہ محبت ایک ایسی چابی ہے جو موت کے بعد بھی تعلق کو برقرار رکھتی ہے۔ بن آپ سے دور نہیں گیا، وہ صرف اس دروازے کے دوسری طرف ہے جسے یسوع نے کھولا ہے۔ وہ وہاں آپ کا انتظار کر رہا ہے، ویسا ہی صحت مند، مضبوط اور مسکراتا ہوا جیسا وہ آپ کے خوابوں میں آتا ہے۔
آج کے دن، میں آپ کو ایک چھوٹی سی بات دینا چاہتا ہوں جسے آپ اپنے ساتھ لے جا سکیں: جب بھی آپ کو لگے کہ دکھ کا تالا بہت سخت ہو گیا ہے، تو 'شکرگزاری کی چابی' استعمال کریں۔ بن کے ان پندرہ سالوں کے لیے شکر ادا کریں، اس کی ذہانت کے لیے، اس کی اس معصوم پیشکش کے لیے جب اس نے اپنا پورا پگی بینک اپنے چچا کے لیے دینا چاہا تھا۔ وہ پیشکش ہی اس کے دل کی قیمت تھی۔
خداوند آپ کے زخموں پر مرہم رکھے۔ وہ آپ کو وہ اطمینان بخشے جو دنیا نہیں دے سکتی۔ یاد رکھیں، جس خدا نے پطرس کو چابیاں دیں، وہی خدا آج بن کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے، اور وہی خدا آپ کا ہاتھ تھامے ہوئے ہے تاکہ آپ اس اندھیرے سے نکل کر امید کی روشنی میں آ سکیں۔
بن ابدی آرام میں ہے، اور اس کی محبت آپ کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
آمین۔
For the intentions entrusted to Ben on our prayer wall:
نجات دہندہ کے حکم پر اور الٰہی تعلیم سے تشکیل پاتے ہوئے، ہم کہنے کی جسارت کرتے ہیں:
اَے ہمارے باپ، تُو جو آسمان پر ہے، تیرا نام پاک مانا جائے؛ تیری بادشاہی آئے، تیری مرضی زمین پر بھی پوری ہو، جیسے آسمان پر پوری ہوتی ہے۔ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے، اور ہمارے قصور ہمیں معاف کر، جیسے ہم اپنے قصورواروں کو معاف کرتے ہیں؛ اور ہمیں آزمائش میں نہ ڈال، بلکہ بُرائی سے بچا۔ آمین۔
خداوند آپ کو برکت دے اور آپ کی حفاظت کرے۔ وہ اپنا چہرہ آپ پر چمکائے اور آپ کو اپنا امن عطا کرے۔ باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام میں۔ آمین۔
✝ May almighty God bless you: the Father, and the Son, and the Holy Spirit. Amen.