آئیے، صلیب کے نشان کے ساتھ، باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام پر اپنی عبادت کا آغاز کریں۔ آمین۔ خداوند کا فضل و سلامتی آپ سب کے ساتھ ہو۔
اے خداوند، رحم کر۔ اے مسیح، رحم کر۔ اے خداوند، رحم کر۔
پیارے بھائیو اور بہنو، یسوع مسیح میں،
آج کا پہلا مطالعہ ہمیں حزقی ایل نبی کے ایک ایسے حیرت انگیز اور پُرعظمت نظارے کی طرف لے جاتا ہے جو ہمارے دلوں کو خدا کے جلال کی موجودگی سے بھر دیتا ہے۔ تصور کیجیے: نبی کو ایک ایسے دروازے تک لے جایا جاتا ہے جو مشرق کی طرف کھلتا ہے۔ اور وہاں، اس نے اسرائیل کے خدا کا جلال دیکھا… مشرق کی طرف سے آتا ہوا۔ یہ کوئی معمولی روشنی نہیں تھی، یہ کوئی ہلکی سی چمک نہیں تھی… یہ ایسا تھا جیسے بہت سے پانیوں کا شور گونج رہا ہو، ایک ایسی آواز جو زمین کو ہلا دے، اور زمین اس کے جلال سے چمک اٹھی۔
حزقی ایل اس منظر کو دیکھ کر زمین پر گر پڑتا ہے۔ وہ اس عظیم الشان موجودگی کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔ یہ خدا کی وہ قدرت ہے، وہ عظمت ہے جو انسان کو اپنی اصلیت، اپنی چھوٹائی کا احساس دلاتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان سمجھتا ہے کہ وہ کس عظیم ذات کے حضور کھڑا ہے۔ اور پھر، روح اسے اٹھاتی ہے اور اندرونی صحن میں لے جاتی ہے، جہاں وہ دیکھتا ہے کہ ہیکل خداوند کے جلال سے بھر گئی ہے۔
اور پھر ایک آواز آتی ہے، جو ہیکل سے نبی سے مخاطب ہوتی ہے: ”اے ابنِ آدم، یہ وہ جگہ ہے جہاں میرا تخت ہوگا، یہ وہ جگہ ہے جہاں میں اپنے قدم رکھوں گا؛ یہاں میں بنی اسرائیل کے درمیان ہمیشہ کے لیے سکونت کروں گا۔“
”یہ وہ جگہ ہے جہاں میں اپنے قدم رکھوں گا؛ یہاں میں بنی اسرائیل کے درمیان ہمیشہ کے لیے سکونت کروں گا۔“ یہ کتنے گہرے الفاظ ہیں! خدا اپنے آپ کو ہمارے درمیان، ہمارے ساتھ ہمیشہ کے لیے بسانے کا وعدہ کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک ہیکل کی بات نہیں، یہ اس گہرے رشتے کی بات ہے جو خدا ہم سے چاہتا ہے۔ وہ ہمارے دلوں میں، ہماری زندگیوں میں سکونت کرنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کا جلال ہمارے درمیان، ہماری سرزمین میں، ہمارے وجود میں قیام کرے۔
اور زبور نگار اسی حقیقت کی بازگشت سناتا ہے: ”خداوند کا جلال ہماری سرزمین میں قیام کرے گا۔“ وہ امن کا اعلان کرتا ہے، نجات کا وعدہ کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ ”مہربانی اور سچائی ملیں گے؛ انصاف اور امن ایک دوسرے کو چومیں گے۔“ یہ خدا کی موجودگی کی تصویر ہے: جہاں خدا کا جلال ہوتا ہے، وہاں امن ہوتا ہے، وہاں انصاف ہوتا ہے، وہاں مہربانی ہوتی ہے، وہاں سچائی ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی بادشاہی ہے جہاں ہر چیز اپنے اصل مقام پر ہوتی ہے، جہاں زندگی اپنے مکمل رنگوں میں جلوہ گر ہوتی ہے۔
لیکن پھر آج کی انجیل ہمیں ایک مختلف تصویر دکھاتی ہے۔ یسوع مسیح بھیڑ اور اپنے شاگردوں سے مخاطب ہوتے ہیں، اور وہ شریعت کے عالموں اور فریسیوں کی بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ موسیٰ کی کرسی پر بیٹھے ہیں، یعنی انہیں تعلیم دینے کا اختیار حاصل ہے۔ یسوع ان کے الفاظ پر عمل کرنے کی تاکید کرتے ہیں، لیکن ان کے اعمال کی پیروی کرنے سے منع کرتے ہیں۔ کیوں؟
”کیونکہ وہ تبلیغ کرتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے۔ وہ بھاری بوجھ باندھتے ہیں جو اٹھانا مشکل ہے اور لوگوں کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں، لیکن خود انہیں ہٹانے کے لیے ایک انگلی بھی نہیں اٹھاتے۔“
یہ ایک دل دہلا دینے والی تصویر ہے۔ یہ لوگ جو خدا کے کلام کے معلم ہیں، جو لوگوں کو خدا کے قریب لانے کے ذمہ دار ہیں، وہی انہیں خدا سے دور کر رہے ہیں۔ وہ خدا کے جلال کو، اس کی سکونت کو، اس کے امن کو لوگوں کی زندگیوں میں آنے سے روک رہے ہیں۔ وہ خدا کے فضل کو بھاری بوجھ میں بدل رہے ہیں۔ وہ لوگوں پر ایسے قوانین، ایسی توقعات، ایسے رسم و رواج کا بوجھ ڈال رہے ہیں جو نہ تو خدا کی طرف سے ہیں اور نہ ہی انسان انہیں اٹھا سکتا ہے۔ اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ خود ان بوجھوں کو اٹھانے میں کوئی مدد نہیں کرتے۔
وہ سب کچھ دکھاوے کے لیے کرتے ہیں۔ ان کی تمام نیکیاں، ان کے تمام اعمال صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھیں، انہیں عزت دیں، انہیں سراہیں۔ وہ محفلوں میں عزت کی جگہوں، عبادت خانوں میں خاص نشستوں، بازاروں میں سلام اور ”اے ربی“ کہلانا پسند کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ خدا کے جلال کی سکونت کے بالکل برعکس ہے۔ جہاں خدا کا جلال ہوتا ہے، وہاں دکھاوا نہیں ہوتا۔ وہاں خود نمائی نہیں ہوتی۔ وہاں صرف خدا کی محبت اور انسان کی عاجزی ہوتی ہے۔
پیارے بہن بھائیو، یہ تصویر ہمارے دلوں میں ایک گہرا سوال پیدا کرتی ہے۔ ہم میں سے کون ہے جس نے کبھی ایسا بوجھ محسوس نہ کیا ہو؟ زندگی کے بوجھ… ذمہ داریوں کے بوجھ… توقعات کے بوجھ۔ کبھی کبھی یہ بوجھ دوسروں کی طرف سے آتے ہیں، اور کبھی کبھی، ہم خود اپنے اوپر ایسے بوجھ ڈال لیتے ہیں جنہیں اٹھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہمیں ہر چیز میں بہترین ہونا چاہیے، ہمیں ہر کام بالکل صحیح کرنا چاہیے، ہمیں کبھی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ اور جب ہم ایسا نہیں کر پاتے، تو ہمارے دلوں میں ایک گہرا دکھ، ایک خالی پن، اور ایک عجیب سا بوجھ محسوس ہوتا ہے… ایک ایسا بوجھ جو ہمیں خدا کے جلال سے، اس کے امن سے دور کر دیتا ہے۔
یہ بوجھ اکثر ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہم خود کو کسی ایسے معیار پر پرکھتے ہیں جو خدا نے کبھی مقرر نہیں کیا۔ ہم سوچتے ہیں کہ خدا کی محبت کو پانے کے لیے ہمیں کچھ خاص کرنا پڑے گا، کچھ خاص بننا پڑے گا، کچھ خاص دکھانا پڑے گا۔ اور جب زندگی کے طوفان آتے ہیں، جب دکھ ہمیں گھیر لیتے ہیں، جب کوئی عزیز ہم سے بچھڑ جاتا ہے، تو یہ بوجھ اور بھی بھاری ہو جاتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ شاید ہم نے کافی دعا نہیں کی، شاید ہم نے کافی کوشش نہیں کی، شاید ہم نے کوئی غلطی کی… اور یہ سوچ، یہ خود ملامتی کا بوجھ، ہمارے دلوں کو مزید نڈھال کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا بوجھ ہے جو ہمیں خدا کی رحمت سے دور لے جاتا ہے۔
لیکن یسوع ہمیں ایک مختلف راستہ دکھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ”تم میں جو سب سے بڑا ہے، وہ تمہارا خادم ہونا چاہیے۔ جو کوئی اپنے آپ کو بلند کرے گا، اسے نیچا کیا جائے گا؛ اور جو کوئی اپنے آپ کو نیچا کرے گا، اسے بلند کیا جائے گا۔“ یہ خدا کے جلال کی سکونت کا اصل راز ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جہاں خدا کا امن، اس کا انصاف، اس کی مہربانی، اور اس کی سچائی واقعی ہماری سرزمین میں قیام کرتی ہے۔ یہ راستہ عاجزی کا ہے، خدمت کا ہے، اور خود کو خدا کے حضور مکمل طور پر سونپ دینے کا ہے۔
آج ہم پاک مریم کی بادشاہت کا یادگاری دن منا رہے ہیں۔ مریم، جس کی زندگی عاجزی اور خدمت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ وہ خدا کی خادمہ کہلائی۔ اس نے کہا: ”دیکھو، میں خداوند کی لونڈی ہوں؛ مجھے تیرے کلام کے مطابق ہو جائے۔“ اسی عاجزی کی وجہ سے، اسی خدمت کے جذبے کی وجہ سے، خدا نے اسے بلند کیا۔ وہ ہماری ملکہ ہے، نہ کسی زمینی تخت کی وجہ سے، بلکہ اس لیے کہ اس نے اپنے آپ کو خدا کے حضور سب سے نیچا کیا۔ اس کا دل وہ پہلا ہیکل تھا جہاں خدا کا جلال، خدا کا بیٹا، واقعی سکونت پذیر ہوا۔ اس نے اپنے آپ پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا، سوائے اس کے جو خدا نے اس کے لیے منتخب کیا، اور اس نے اسے محبت اور عاجزی سے قبول کیا۔
اور یہی وہ عاجزی ہے، یہی وہ دل کی سادگی ہے جو ہمارے پیارے بنجامن وو کی زندگی میں بھی ہمیں نظر آتی تھی۔ بن، جو پندرہ سال کی عمر میں ہمیں چھوڑ کر خدا کے حضور چلا گیا۔ اس کی زندگی، اگرچہ مختصر تھی، لیکن اس میں خدا کے جلال کی ایک جھلک تھی۔
ہم میں سے بہت سے لوگوں کو بن کی ذہانت، اس کی تجسس، اور ٹیکنالوجی میں اس کی گہری دلچسپی یاد ہے۔ وہ ایک روشن دماغ کا مالک تھا۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر، بن ایک نرم دل کا مالک تھا۔ اس کی معصوم مسکراہٹ، اس کی بے ساختہ خوشی، اور دوسروں کے لیے اس کی ہمدردی… یہ سب اس کے دل کی پاکیزگی کی گواہی تھی۔
مجھے وہ لمحہ یاد آتا ہے جب بن نے اپنے چچا کے لیے، جو بیماری سے گزر رہے تھے، اپنا پورا گلہ (piggy bank) دینے کی پیشکش کی تھی۔ یہ کوئی دکھاوا نہیں تھا۔ یہ کوئی ایسا عمل نہیں تھا جو لوگوں کی نظروں میں آنے کے لیے کیا گیا ہو۔ یہ ایک بچے کا بے لوث، معصوم اور عاجزانہ پیشکش تھی۔ اس نے اپنا سارا کچھ دینے کی پیشکش کی، یہ جانے بغیر کہ اس کی ضرورت پڑے گی یا نہیں۔ یہ اس کے دل کی سچائی تھی، اس کی محبت کی گہرائی تھی۔ اس نے اپنے چچا کے بوجھ کو محسوس کیا اور اسے اٹھانے کے لیے، اسے ہلکا کرنے کے لیے، اپنی پوری طاقت سے، اپنی پوری معصومیت سے، سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھا۔
یہ عمل، پیارے بہن بھائیو، فریسیوں کے دکھاوے کے بالکل برعکس ہے۔ یہ وہ عاجزی ہے جو یسوع نے سکھائی۔ یہ وہ خدمت ہے جو خدا کو پسند ہے۔ بن نے اپنے آپ کو بلند کرنے کی کوشش نہیں کی؛ اس نے صرف محبت کی۔ اور اسی محبت میں، اسی عاجزی میں، خدا کا جلال اس کے دل میں سکونت پذیر تھا۔ اس نے اپنے دل میں خدا کے لیے ایک ایسا ہیکل بنایا جہاں خدا کے قدم ہمیشہ کے لیے ٹھہر گئے۔
پیارے ایلن اور تھاؤ، اور ہمارے عزیز ریان… یہ نؤ ہفتے جو بن کے بغیر گزرے ہیں، یقیناً آپ کے کندھوں پر ایک بھاری بوجھ کی طرح محسوس ہوتے ہوں گے۔ ہر گزرتا دن، ہر خالی جگہ، ہر خاموش لمحہ آپ کے دلوں میں ایک گہری کسک پیدا کرتا ہوگا۔ یہ درد حقیقی ہے، اور اسے تسلیم کرنا ضروری ہے۔
لیکن آج یسوع کا کلام آپ سے یہ بھی کہتا ہے کہ آپ اپنے اوپر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالیں جو خدا نے آپ پر نہیں ڈالا۔ یہ بیماری، یہ دکھ، یہ جدائی… یہ خدا کی طرف سے کوئی سزا نہیں تھی، نہ ہی یہ آپ کی کسی کمی کی وجہ سے تھی۔ آپ نے بن کو وہ سب کچھ دیا جو آپ دے سکتے تھے: بے پناہ محبت، دیکھ بھال، اور وہ خوشیاں جو اس نے اپنی مختصر زندگی میں حاصل کیں۔ خدا آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا، اور آپ کو بھی اپنے اوپر کوئی الزام نہیں لگانا چاہیے۔
خدا کا جلال، اس کا امن، اس کی سکونت آپ کے گھروں سے غائب نہیں ہوئی ہے۔ وہ آپ کے دلوں میں موجود ہے، آپ کی محبت میں موجود ہے، آپ کی عاجزی میں موجود ہے۔ یہ خدا کا وعدہ ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ہمارے درمیان سکونت کرے گا۔ وہ بن کے دل میں سکونت پذیر تھا، اور وہ آپ کے دلوں میں بھی سکونت پذیر ہے۔
جب ہم بن کی زندگی پر غور کرتے ہیں، تو ہمیں یاد آتا ہے کہ خدا کی بادشاہی میں، عمر یا وقت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اہمیت صرف محبت کی ہوتی ہے، عاجزی کی ہوتی ہے، اور دل کی پاکیزگی کی ہوتی ہے۔ بن نے اپنی مختصر زندگی میں وہ سب کچھ حاصل کر لیا جو خدا کو پسند ہے۔ اس نے محبت کی، اس نے عاجزی دکھائی، اور اس نے اپنے دل کو خدا کے لیے ایک ہیکل بنا دیا۔
وہ اب خدا کے حضور ہے، جہاں کوئی بوجھ نہیں، کوئی دکھ نہیں، کوئی آنسو نہیں۔ وہ پاک مریم کے آنچل تلے، اور اپنے ہمدم سانت کارلو اکوتس کے ساتھ، اس ابدی ضیافت میں شریک ہے جہاں خدا کا جلال ہمیشہ کے لیے قیام پذیر ہے۔ وہ وہاں سے آپ سب پر، خاص طور پر آپ پر، پیارے ایلن اور تھاؤ، اور ریان پر، اپنی محبت اور اپنی مسکراہٹ نچھاور کر رہا ہے۔
ہم بن کے تمام چچا، پھپھوؤں، عزیزوں، اور دور دراز سے اس پاک کلام میں شریک ہونے والے ہر بہن بھائی کے لیے دعا کرتے ہیں… خاص طور پر ان تمام بچوں اور خاندانوں کے لیے جو اس وقت دکھ اور تکلیف سے گزر رہے ہیں۔ جو بیماری کی صلیب اٹھائے ہوئے ہیں، جن کے دلوں میں غم ہے، جنہیں امید کی ضرورت ہے۔ خدا ان سب کو اپنی زندگی بخشنے والی روح سے بھر دے، اور ان کے دلوں کو اپنے جلال کی سکونت سے مالا مال کرے۔
آج، جب آپ اس عبادت سے رخصت ہوں، تو اپنے دل میں یہ ایک بات لے کر جائیں:
اپنے اوپر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالیں جو خدا نے آپ پر نہیں ڈالا۔ اس کے بجائے، عاجزی اور محبت کے چھوٹے چھوٹے اعمال کے ذریعے خدا کے جلال کو اپنے دلوں میں، اپنے گھروں میں، اور اپنی زندگیوں میں سکونت پذیر ہونے دیں۔ یہ دکھاوا کرنے کی ضرورت نہیں، یہ بہترین ہونے کی ضرورت نہیں… بس محبت کرنے کی ضرورت ہے۔ خدا کی عظمت اسی عاجزی میں قیام کرتی ہے۔
اور یاد رکھیں، خدا کا جلال آپ کے ساتھ ہے، وہ آپ کے دکھ میں بھی آپ کے قدموں میں ٹھہرا ہوا ہے، اور وہ آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ آمین۔
For the intentions entrusted to Ben on our prayer wall:
نجات دہندہ کے حکم پر اور الٰہی تعلیم سے تشکیل پاتے ہوئے، ہم کہنے کی جسارت کرتے ہیں:
اَے ہمارے باپ، تُو جو آسمان پر ہے، تیرا نام پاک مانا جائے؛ تیری بادشاہی آئے، تیری مرضی زمین پر بھی پوری ہو، جیسے آسمان پر پوری ہوتی ہے۔ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے، اور ہمارے قصور ہمیں معاف کر، جیسے ہم اپنے قصورواروں کو معاف کرتے ہیں؛ اور ہمیں آزمائش میں نہ ڈال، بلکہ بُرائی سے بچا۔ آمین۔
خداوند آپ سب کو برکت دے، اور ہمیشہ اپنی نگہبانی میں رکھے۔ اپنے دلوں میں امن اور امید کے ساتھ جائیں۔
✝ May almighty God bless you: the Father, and the Son, and the Holy Spirit. Amen.